
د انسان قتل گناہِ کبیرہ دہ
ثوک چی وینی تویہ وی ھغہ برباد دے
وینہ ورکڑہ چی د مینی مستحق شی
دا جہان پہ محبت باندی آباد دے
مشاعروں کی تاریخ بڑی پرانی ہے۔ اس میں ہماری تہذیب و روایات کی عمدہ مثالیں ملتی ہیں۔ انھی محفلوں میں آداب اور طور طریقوں کی جھلکیاں بھی ملتی ہیں۔ مقامِ شکرہے کہ ہمارے ہاں وقتا فوقتاً مشاعرے منعقد ہوتے رہتے ہیں۔ ویسے عام طور سے ہوتا یہ ہے کہ جو چیز اپنی اِفادیت کھو دیتی ہے وہ یا تو مٹ جاتی ہے، یا اپنی شکل بدل کر نئے حالات سے مطابقت اختیار کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ خوش قسمتی سے ہمارے ہاں مشاعروں کی روایت آج بھی پوری آب وتاب سے جاری ہے جس سے ایک طرف زبان وادب کو فروغ مل رہا ہے، تو دوسری طرف بڑے بڑے شعرا منظرِ عام پر آرہے ہیں۔ یوں نئی نسل کو تفریح کے ساتھ اخلاقیات کا درس بھی مل رہا ہے۔
ہاں توبات ہورہی تھی بیدرہ مشاعرے کی۔ 11 جون 2023ء کو بروزِ اتوار روشن مگر گرم دوپہر کو دن دو بجے ’’مشال ادبی و ثقافتی ٹولنہ‘‘ کی جانب سے مٹہ شامزے کے مشہور گاؤں بیدرہ میں ایک بڑے مشاعرے کا اہتمام کیا گیا، جس میں سیکڑوں کی تعداد میں سیاسی و سماجی شخصیات کے ساتھ شعرا و ادبا نے شرکت کی اور اپنے پسندیدہ شعرا کے اشعار سے لطف اندوز ہوتے ہوئے داد و تحسین کے ڈونگرے برساتے رہے۔ خاص طور پر تسلیم نرسنگ کالج کے طلبہ توداد دینے میں بڑے فراخ دلی کا مظاہرہ کررہے تھے۔
سب سے پہلے تلاوتِ قرآن پاک سے مجلس کا آغاز کیا گیا۔ اس کے بعد آفتاب خان شہبازنے مجلس پربحث کرتے ہوئے سامعین اور ناظرین کے سامنے مشال ادبی ٹولنہ کے تاریخی پس منظرپربحث کرتے ہوئے اس کی ادبی خدمات اُجاگرکیں۔
دخپل زڑگی د کلی خان دی کڑمہ
ڈیرہ مننہ چی جانان دی کڑمہ
یہ محبتہ! زہ کافر وومہ خو
یہ محبتہ! مسلمان دی کڑمہ
تسلیم نرسنگ کالج بیدرہ میں منعقدہ اس تقریب میں حیدر درمان، امجدعلی امجد، آصف خوشحال، امیر زیب زیب، سیف اللہ سیف، نجیب اللہ حسرت، امجد علی سورج، بہادر شیر افغان، ابن آمین خکلے، رجب شیگروال، شوال صیب، عبد اللہ شباب، جہانزیب دلسوز، انور سواتی، حضرت نبی داودی، ابراہیم بیدروال، موسیٰ خان عکاس، قاری فرمان اللہ یوسف زئی، ناصر ریشم یوسف زئی، عماد الدین عماد، اظہار اللہ ہلال، حیدر علی حیدر، محمد اسماعیل گل فام، سراج الدین سراج، کرم مندوخیل، خورشید قاسمی، عارف تابان، عادل ارمان، شاہد خان شاہد اور شریف اللہ محراب نے اپنا اپنا کلام بہتر انداز سے پیش کیا، لیکن ضمیر خان ضمیر، مجیب زلمی اور افسر الملک افغان نے تومشاعرہ ہی لوٹ لیا۔ مشاعرے کے مشرمیلمہ شریف اللہ شریف جب کہ صدرِ محفل افسر افغان صاحب تھے۔
دستارونہ حق دارانو تہ پہ سر کڑی
ھغہ رد کڑئی چی د غیرو غلامی کڑی
چی پہ سختہ کی اغیار سرہ اودریگی
خپل مونہ دی، چی پردوتہ سلامی کڑی
پروگرام میں شریک پروفیسر ڈاکٹر بدر الحکیم حکیم زے صاحب نے شاعر کیا ہے اور شاعر کے فرائض کے عنوان سے ایک علمی و ادبی مقالہ بھی پیش کیا اور شرکائے مجلس کو اپنے جادوئی الفاظ، میٹھے اور سریلی اندازسے سحرمیں مبتلا رکھا۔ موصوف نے شاعر کا مقام و مرتبہ اور اس کی ذمے داریوں پربحث کرتے ہوئے پورے پاکستانی قوم کو عموماً اور پشتون قوم کو خصوصاً اتحاد و اتفاق کا درس دیا اور خوب داد سمیٹی۔
آخر میں تسلیم کالج کے پرنسپل جمال الدین صاحب اورمشال ادبی و ثقافتی ٹولنہ کے سرپرستِ اعلا ڈاکٹر ظاہر شاہ ظاہر نے آئے ہوئے مہمانوں، کالج انتظامیہ، بیدرہ زلمی نامی تنظیم، آئے ہوئے شعرا و ادبا اور تمام شرکا کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا۔کمپیئرنگ کے فرائض حمید الرحمان ہم درد، حضرت علی مشال اور آفتاب شہبازنے اداکیے۔مشاعرے کا اختتام افسرافغان، عارف تابان اور ضمیر خان ضمیر کے ٹپوں کے ساتھ ہوا۔
قارئین! شاعرکے دل سے نکلی بات قاری یا سامع کے دل تک براہِ راست پہنچتی ہے اور تا دیر اثر قائم رکھتی ہے۔ شاعر نئی نسل کے دل کی بنجرزمین کو زرخیزبنانے کا موجب بنتا ہے۔ شاعر اپنے سننے والوں کے دل پر ایسا جادو کرتا ہے کہ وہ ان کو اپنے ساتھ ہنسنے یا رونے پر مجبور کرتا ہے۔
آج کے دورمیں لکھنے اورپڑھنے کارواج کم ہوتا جا رہا ہے اور کتابوں کی دست یابی بھی آسان نہیں۔ اس لیے اس قسم کی محفلوں اور مجلسوں کا انعقاد وقت کی ضرورت ہے۔ مشاعروں کی اہمیت سے کسی بھی صورت انکار نہیں کیا جاسکتا۔ اس لیے آگے بڑھنا ہوگا اور گلی گلی قریہ قریہ مشاعروں کا انعقاد کرنا ہوگا، لیکن بہترین، محب وطن اور باعمل شعرا کو مدعو کرنا ہوگا۔
آخر میں میر تقی میرؔ کے اس شعر پر اجازت چاہوں گا کہ
اب تو جاتے ہیں بت کدے سے میرؔ
پھر ملیں گے اگر خدا لایا