
ہمارے شاعر دوست، مہربان اور ملنسار ہنس مکھ فضل معبود دیارؔ جو پہلے شاکرؔ ہوا کرتے تھے، ”غنم رنگی“ پشتو شعری مجموعے کے خالق ہیں۔ چوں کہ ”شاکروں“ کی تعداد زیادہ ہوگئی ہے، لہٰذا یار دوستوں نے مشورہ دیا کہ فضل معبود صاحب اب شاکر و صابر کا زمانہ نہیں رہا، بہت عرصہ ”شاکر“ رہے اب بلند و بالا برف پوش پہاڑوں پر سینہ تھانے سر بہ فلک کھڑے ”دیار“ کے درخت کی طرح آسمانی اونچائی کی جانب اپنا قدو قامت بڑھاؤ! اس لیے اچھے بھلے فضل معبود صاحب دیکھتے دیکھتے ”دیار“ بن گئے۔ اب موصوف ”شاکر“ کی بجائے فضل معبود دیارؔ کے نام سے جانے پہچانے جاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ دیار کی درخت کی طرح اُن کی عمر دراز کرے، جسمانی صحت توانا کرے اور علم میں ”دیار“ جیسی اونچائی اور بلندی نصیب کرے۔
”غنم رنگی“ کیا ہے؟ اُردو میں ہم اسے گندمی رنگ والے کہہ سکتے ہیں۔ اشرف المخلوقات کے حوالے سے یہ رنگ خوبصورت، ملیح، جاذب اور مخالف کی آنکھوں میں تراوٹ اور ٹھنڈک پہنچانے والا رنگ پہچانا اور گردانا جاتا ہے۔ فضل معبود دیارؔ صاحب اپنے شعری مجموعے میں اس معروف نام کو کچھ اس طرح استعمال کرتے ہیں:
خڑی دی کہ سپینی دی کہ سری کہ غنم رنگی دی
یہ دیارہؔ زہ پہ کی لہ ہر رنگہ قربان یمہ
چی غنم رنگو پختنو می راسپڑدل رنگونہ
د زڑہ لہ بڑاسہ بہ پہ خپلہ خڑیدی آئینی
ان اشعار سے واضح ہوا کہ ”غنم رنگی“ کو رنگ کے پیرائے میں استعمال کیا گیا ہے اور پختونوں کو رنگ کے لحاظ سے”غنم رنگی“ بتایا گیا ہے جو ایک مقبول، معروف اور پائیدار رنگ سمجھا جاتا ہے۔
قارئین! فضل معبود دیارؔ کی شاعری پر فنی گہرائی اور موضوعی خصوصیات کے حوالہ سے بحث کرنا میرے دائرہ علم سے باہر ہے۔ کالم کا دامن اتنا وسیع بھی نہیں کہ کتاب کے ہر صفحے پر گل افشانی کی جائے، کیوں کہ کتاب کا ہر صفحہ تبصرہ کا تقاضا کرتا ہے۔ ہر شعر ذو معنی ہے۔ یہ تو اظہر من الشمس ہے کہ بلاشبہ فضل معبود دیارؔ صاحب اپنے ہم عصر شعرا میں بہت حوالوں سے ایک الگ اسلوب اور نئے انداز کے مالک ہیں۔
اپنے فکری حوالے سے وہ فن کے اونچے مقام پر ہیں۔ اپنے فکری پس منظر میں پختون کلاسیک روایات، صوفیانہ خصلت، رومانوی تصویر اور ترقی پسندانہ حقیقت میں اتنی گہرائی میں جاچکے ہیں کہ اس کی حدِ فاصل کو آسانی سے معلوم نہیں کیا جاسکتا۔ ایک دوسرے میں ضم ہونے اور الگ ہونے کی حدود نظر نہیں آتیں، البتہ محسوس کی جاسکتی ہیں۔ ایک دوسرے میں وصل و فراق کے لمحوں اور لکیروں کو محسوس کیا جاسکتا ہے۔ دیارؔ صاحب کا ہر شعر جوہر ذات و محسوسات کے ساتھ ساتھ کائنات، عصر، معاشرتی زندگی، رومانوی رنگ اور اپنے مخصوص نظریے کی عکاسی اور ترجمانی کرتا ہے۔ بہ طورِ مثال ان دو اشعار کو ملاحظہ فرمائیں۔
د مالگو دکان خہ دے د پرہر پہ خاریہ کی
اوس دغہ کاروبار دے گٹہ ور پہ خاریہ کی
حیران شمہ حلیہ بہ یی بیخی د فرختو وہ
زہ دی سڑی لوٹلے یم اکثر پہ خاریہ کی
ان اشعار پر فکر کے بعد یہی کہا جاسکتا ہے کہ نمک کی دکان، انسانی زخم، شہر، کاروبار، انسان، فرشتے اور لوٹ کے الفاظ جمع کرکے ایک خوبصورت واضح مقصدی بیانیے کا شعری گلدستہ ترتیب دیا گیا ہے، جس میں شکوے اور گلوں کے ساتھ ساتھ تنقیدی نشتری قلم سے معاشرے کا المیہ بیان کیا گیا ہے۔ موصوف خود مذہبی شخصیت کے علاوہ ایک مذہبی پارٹی سے بھی متاثر ہیں، لیکن معاشرے کے دکھ درد اور ترقی پسندانہ سوچ اور فکر کے حقائق سے بھی پہلو تہی نہیں کرتے۔ یہ دو اشعار ملاحظہ ہوں:
د انسانی عظمت د روح کریکی می واوریدلی
خور گڈیدہ وڑوکی ورور راٹولولی روپئی
د کونڈی کور کے نہ ڈیوہ وہ، نہ ڈوڈیئ د ماخام
د دغہ کلی خلکو سختی لہ ساتلی روپئی
کتنی خوبصورتی سے سرمایہ اور سرمایہ دار کے ظلم، طبقاتی سماج اور سماج کے ننگے پن کی نشان دہی کی گئی ہے۔ فضل معبود دیارؔ ہر عصر کے شاعر ہیں۔ ہر دکھ، ہر درد کو اشعار کی لڑی میں پرویا ہے۔
فضل معبود دیارؔبلند مقام کے انسان سے لے کر نیچے گلی، کوچوں، محلوں اور جھونپڑیوں میں رہنے والے رینگتے کیڑے مکوڑوں جیسے انسانوں کے بھی شاعر ہیں۔ دراصل اُن کا ذہنی و فکری میدان آسمانی بلندیوں اور زمینی وسعتوں سے زیادہ وسیع و عریض ہے۔ اُن کی شاعرانہ پرواز جتنی اونچائی میں ہے، اُتنی ہی گہرائیوں میں بھی غوطے لگاتی ہے۔ شاعر اپنے جمالیاتی رویے کے سبب ایک الگ رنگ اور انفرادی رجحان کا مالک ہے، جس کے شاعر اور تجربات اور فکری ترجیحات میں اظہارِ ذات ہے اور اپنے شعر میں ایک نئی حسی کیفیت (New Sensibility)کا جابجا اظہار کرتا ہے۔ ملاحظہ کریں:
دا ستا رضا وہ، زہ تا دی خکلا لہ راوستمہ
اوس د دی زائے د رنگینو نہ زما زڑہ نہ کیگی
تہ ما تہ مہ ودریگہ، زہ لا لیہ وخت درنہ زی
زمونگ نہ دغہ د وختونو سرہ تلہ نہ کیگی
ہر شعر پر دل واہ واہ اور کبھی آہ آہ کرنے کو دل چاہتا ہے۔ ہر شعر رُکنے کو اور جھکنے کو کہہ رہا ہے۔ ہر غزل سوچ اور فکر کی دعوت دیتا ہے۔ سوچ اور فکر کے ساتھ ہر شعر میں بیداری اور انگڑائی بھی ہے۔ اس لیے تو سوات کے مشہور اور مانے ہوئے شاعر حنیف قیسؔ، فضل معبود دیارؔ کے بارے میں کچھ یوں فرما رہے ہیں کہ دیارؔ صاحب شاعر ہیں اور ایسے شاعر جو لفظوں کی پہچان رکھتے ہیں۔ اُس کا تقدس جانتے ہیں اور استعمال کرنے سے بھی واقف ہیں۔ اُس کی شاعرانہ سوچ اور فکر پختہ ہے۔
قارئین! فضل معبود دیار کون ہے اور کہاں سے تعلق رکھتے ہیں؟ ڈاکٹر اباسین یوسف زیئ چیئرمین پختو سانگہ اسلامیہ کالج پشاور اس بارے میں کچھ یوں رقم طراز ہیں: ”فضل معبود دیارؔ ولد خورشید علی خان کا شجرہئ نسب مدی بابا سے ملتا ہے۔ لہٰذا وہ مدے خیل یوسف زیئ ہیں۔ 6 جون 1977ء کو شالپین برسوات تحصیل خوازہ خیلہ میں پیدا ہوئے۔ اُردو ادب اور ایجوکیشن میں ماسٹر ڈگری ہولڈر ہیں اور شالپین ہائی سکول میں اُستاد ہیں۔ دیارؔ صاحب اپنی شاعری میں اپنے دور کے حالات کی کامیاب وکالت کرتے ہیں۔ حق پرستی اور حق کی طرف داری، وقت کی آواز بلکہ ہر دور کے لیے لازمی گردانتے ہیں۔
ڈاکٹر اظہار اللہ اظہارؔ پروفیسر اُردو اسلامیہ کالج یونیورسٹی، فضل معبود دیارؔ کے پشتو شعری مجموعے ”غنم رنگی“ پر اپنے جامع دیباچے میں کچھ یوں تحریر فرماتے ہیں کہ ”فضل معبود دیارؔ کے کلام میں عشق و محبت کے جذبات کہیں بھی زوال پذیر دکھائی نہیں دیتے، بلکہ یہ نازک جذبات غزل میں اپنے آپ کو یوں سمودیتے ہیں جیسے ایک خوبصورت دراز قامت دوشیزہ زندگی کے دُکھوں اور وقت کے جبر میں بھی اپنے نرم و نازک ہونٹوں پر جوانی کی شوخی اور نظروں کی مستی زندہ و تابندہ رکھتی ہے۔“
زندگی سے وابستہ تمام واقعات اپنی سنجیدہ شاعری میں ہنر و فن کمال کے ساتھ شاعر نے بیان کیے ہیں۔ تمام موضوعات پر شاعر کی قلمی حکمرانی کا پورا پورا احساس ہوتا ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ الفاظ، قافیے، ردیف شاعر کے آگے ہاتھ باندھے صف آرا ہیں اور جب بھی، جہاں بھی شاعر کی مرضی ہو، وہاں موزوں اور مناسب مقام پر انہیں خوبصورتی سے سمودیا جاتا ہے۔
قارئین! اچھا انسان اور اچھا شاعر ان دونوں صفات کا ایک شخصیت میں ملنا بہت مشکل ہوتا ہے۔ ہر اچھا شاعر اچھا انسان نہیں ہوتا، لیکن فضل معبود دیارؔ صاحب اس فارمولے سے مبرا ہیں۔ وہ علم و قلم کے اُس قبیلے کے سرخیل ہیں جہاں اچھا شاعر اچھا انسان بھی ہوتا ہے۔
فضل معبود دیارؔ صاحب اچھے شاعر کے ساتھ ساتھ اچھے اور بہترین اخلاق کے حامل انسان ہیں، وہ اُن انسانوں میں سے ہیں جن سے ایک بار مل کر بار بار ملنے کو دل چاہتا ہے۔
خوبصورت مجلد جاذب نظر ٹائٹل کے ساتھ یہ کتاب ہر اچھے بک سٹال کے علاوہ مبلغ 250روپے پر درجِ ذیل بک سٹالوں پر ہر وقت دستیاب ہے:
شعیب سنز مینگورہ۔
حبیب بک سیلرز خوازہ خیلہ۔
عمران بک سیلر مٹہ سوات۔
کتاب کور پشاور۔
ابوبکر بک سیلر ادھیانہ بازار مینگورہ۔
کتاب کی خوبصورتی اور معیاری شاعری کے حوالے سے 250روپے قیمت پر کوئی زیادہ مہنگی نہیں۔ آگے بڑھ کر کتاب کو ہاتھوں ہاتھ لے کر پشتو ادب اور زبان کو فروغ دیجیے اور اپنی مادری زبان کا حق ادا کیجیے۔
مَیں فضل معبود دیارؔ صاحب کو اُس کے پہلے پشتو شعری مجموعے کی اشاعت پر دل کی گہرائیوں سے مبارک باد دیتا ہوں اور کتاب تحفتاً دینے کا شکریہ ادا کرتا ہوں اور دعا کرتا ہوں کہ زورِ قلم اور زیادہ ہو۔
فضل معبود دیارؔ صاحب کے چند اشعار کے ساتھ رخصت چاہوں گا:
ڈیر سندونہ ورسرہ دی د عصری علمونو
خو نالائقہ دی چی لری لہ حجری خلق دی
پہ پختنو کے د پختو خویونہ مہ لٹویئ
وائی پختو خو د آخری زمانی خلق دی