کالم نگاری

نگران وزیر اعظم

روح الامین نایاب

✍️ کالم نگار: روح الامین نایاب

اشتہار / Advertisement

جب نگران وزیراعظم کے لیے سوات سے تعلق رکھنے والے سابق چیف جسٹس محترم ناصر الملک کے نام کا اعلان ہوا تو ہر سواتی کا سر فخر سے بلند ہوا اور ہر جگہ خوشی کا اظہار کیا گیا۔ یہ واقعی سوات کے لیے ایک اعزاز اور عزت کی بات تھی۔
سوات کے عوام نے تحریک انصاف کی جھولی میں اپنا پورا مینڈیٹ ڈال دیا۔ عمران کے سر پر سات صوبائی سیٹوں اور دو عدد قومی سیٹوں کا سہرا سجادیا لیکن افسوس کہ تحریک انصاف نے اپنے پورے پانچ سالہ دور حکومت میں سوات اور سواتی عوام کی کوئی عزت افزائی نہیں کی۔ کوئی اعزاز نہیں بخشا۔ صوبے کے وزیراعلیٰ نے سوات کو بالکل نظر انداز کیا۔ اور سوات کے منتخب ممبر حضرات کچھ بھی نہ کرسکے۔ صرف آہیں بھرتے رہے اور خالی خولی وعدوں کے بیانات دیتے رہے۔ خیر اس بارے میں پھر کبھی بات کریں گے۔ اب ذرا نگران وزیراعظم صاحب کی کارکردگی پہ بات ہوجائے۔
محترم ناصر الملک صاحب نے حلف اُٹھاتے ہی اعلان کیا کہ میری نگرانی میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں نہیں بڑھائی جائیں گی۔ ہمیں یہ سن کر از حد خوشی ہوئی۔ لیکن یہ خوشی زیادہ دیرپا ثابت نہ ہوسکی۔ اگلے دن پیٹرول کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ کیا گیا۔ ہمیں نگرانی کا یہ آغاز اچھا نہیں لگا۔ پہلے تو بغیر معلومات کے یہ اعلان کرنا نہیں چاہئے تھا اور بعد میں اگر مجبوری آبھی گئی تھی تو اپنی ساکھ ہر قیمت پر بر قرار رکھنی چاہئے تھی اور پیٹرول کو مہنگا نہیں ہونے دیا جانا چاہئے تھا۔ اب حال ہی میں غریب عوام پر مہنگائی کا ایک اور بم گرادیا گیا ہے۔ ایک خبر کے مطابق ملک کی تاریخ میں گیس کی قیمت میں ریکارڈ اضافہ کیا گیا۔ ’’اوگرا‘‘نے گھریلو صارفین کے لیے گیس تین سو فیصد مہنگی کردی۔ مزید ظلم و ستم یہ کہ چوری اور لکیج کی مد میں 21ارب روپے اضافی وصولی کی منظوری بھی دے دی گئی۔ جس کا اعلامیہ جاری کردیا گیا ہے۔ یہ اضافی وصولی عام صارف سے گیس کے بلوں کی صورت میں کی جائے گی۔ یہ ایک انوکھا کارنامہ ہے کہ اوگرا کا کام عوام کو سہولیات کی فراہمی، سسٹم کی نگرانی اور صارفین کو ریلیف دینا ہے لیکن اس کے برعکس اوگرا نے چور ی، لکیج کی ذمہ داری بھی عوام پر ڈال کر ظلم و بربریت کی انتہا کردی ہے۔ جبکہ گیس یا بجلی کی چوری روکنا عوام کی نہیں بلکہ متعلقہ محکمے کی ذمہ داری ہوتی ہے۔
ہمیں تو حیرانی اس بات پر ہے کہ پیٹرولیم اور گیس کی قیمت میں حالیہ اضافہ نگران حکومت کے دور میں کیا گیا۔ حالاں کہ نگران حکومت کو روز مرہ معاملات نمٹانے اور آنیوالے انتخابات کے حوالے سے متعلقہ اداروں کی معاؤنت تک اپنے آپ کو محدود رکھنا چاہئے تھا۔ اس محدود مینڈیٹ کے باوجود سوئی گیس اور پیٹرولیم میں ہوشربا اضافے کے حوالے سے بھجوائی گئی سمری کی منظوری کس جواز کے تحت دی گئی؟
اب تو ہم سپریم کورٹ سے اپیل ہی کرسکتے ہیں کہ نگران وزیراعظم کو اپنے دائرہ کار اور اختیارات کی یاد دہانی کرائیں کہ نگران سیٹ آپ کا یہ مینڈیٹ ہی نہیں۔ نگران وزیراعظم صرف نگران ہی رہے تو بہتر ہے۔ وہ مالک نہ بنے۔ اور نہ خود مختارانہ فیصلے کریں۔ ہم تو سمجھیں تھے کہ ناصر الملک صاحب اپنی ڈھائی مہینے کی نگرانی میں کچھ ایسے مثبت عوامی مفاد کے کارنامے سرانجام دیں گے، جسے مدتوں یاد رکھا جائے گا۔ سوات کے حوالے سے چند خصوصی اور ضروری کاموں پر خاص توجہ دیں گے، جو بعد میں ان کے نام کے ساتھ اچھے الفاظ میں یاد کیا جائے گا۔
ہم خوش ہوئے تھے۔ ہم نے خوشی منائی تھی لیکن افسوس ہمیں مایوسی ہوئی۔ سوات کے عوام تو کیا پورے پاکستانی عوام سواتی چیف جسٹس کے یہ ’’تلخ کارنامے‘‘ مدتوں یاد رکھیں گے۔ جبکہ پیٹرول کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ کیا جارہا ہے جس سے ہر چیز کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ ہوگا۔ عام آدمی کا جینا دوبھر ہوجائے گا۔
نگراں وزیراعظم صاحب سے درخواست بلکہ رحم دلانہ اپیل ہے کہ عوام کی حالت پر رحم کریں۔ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ فوری طور پر واپس لیں۔ اور اپنے مینڈیٹ کے حدود سے تجاوز نہ کریں۔ یہ تو زیادہ سے زیادہ ڈھائی مہینے کی چاندنی ہے، پھر وہی اندھیری رات ہوگی۔ عوام کے صبر اور برداشت کا امتحان نہ لیا جائے۔ اگر ایک دفعہ یہ بند ٹوٹ گیا تو اپنے ساتھ سارا کچھ بہا کر لے جائے گا۔

اشتہار / Advertisement
اشتہار / Advertisement
اس تحریر کو شیئر کریں:

⭐ آپ کو یہ تحریر کیسی لگی؟ (درجہ بندی کریں)

براہ کرم اس تحریر کو 1 سے 5 ستاروں کے درمیان ریٹنگ دیں

اوسط ریٹنگ: 0 / 5 (0 ووٹ)

اپنا تبصرہ تحریر کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کی نشاندہی * سے کی گئی ہے۔