
قارئین کرام! 7 اگست کو ظفر پارک بٹ خیلہ میں حکومتِ وقت کے خلاف ایک عوامی احتجاج کا بھر پور مظاہرہ کیا گیا۔ ظفر پارک میں تل دھرنے کی جگہ نہ تھی۔ پارک تو کیا آس پاس کی سڑکیں، بازار اور گلے کوچے عوام کے جم غفیر سے اٹے پڑے تھے۔ سخت گرمی میں بھی عوام نے اپنے مطالبات منوانے کے لیے جس جوش و جذبے کا اظہار کیا تھا، وہ واقعی قابلِ دید تھا۔ حکومت کی غلط پالیسیوں، مہنگائی، بدانتظامی، اقربا پروری، انتقامی اور متعصبانہ رویوں کے خلاف عوام مشتعل اور بپھر گئے تھے۔ مخالفانہ فلک شگاف نعروں سے بٹ خیلہ گونج رہا تھا۔
یہ ”آل کوارڈی نیشن کونسل“ کی طرف سے اپنے جائز مطالبات کے لیے ایک پُرامن احتجاج اور جلسہ تھا، جس میں سرکاری ملازمین کے تمام ادارے بہ شمول اپنے یونین کے نمائندوں اور ارکان کے موجود تھے۔ اس میں ٹی ایم اے، ڈبل ون ڈبل ٹو، پبلک ہیلتھ، سی اینڈ ڈبلیو، محکمہ تعلیم، کلرک ایسوسی ایشن، اے جی آفس سے تا کلاس فور ملازمین موجود تھے۔ یہ نچلے اور درمیانے طبقے کے لوگ مجبور ہوکر آج اس حبس زدہ گرمی میں ننگے پیر نکل آئے تھے۔ جوان، بزرگ، بوڑھے، بچے سب کے سب بھوک و افلاس اور غربت کے ہاتھوں تنگ آکر آج بہ جنگ آمد تھے۔
کمر توڑ مہنگائی نے عام پاکستانی کا جینا دوبھر کردیا ہے۔ حکومت کی غلیظ پالیسی اب لوگ سمجھ چکے ہیں۔ حکومت ایک ہاتھ سے اگر اپنی سستی شہرت کے لیے کچھ رقم بھیک کی صورت میں غریب عوام کے ہاتھ تھما دیتی ہے، تو اگلے ہی لمحے اسے پیٹرول، بجلی اور عام ضروری اشیا کی مہنگائی کی شکل میں تروڑ مروڑ کر دو گنا واپس لے لیتی ہے۔ پیٹرول 5 روپے سستا، تو 25روپے مہنگا، آٹے کی بوری 800 سے 1300روپے، چینی 65 سے 95 روپے فی کلو پہ ہے۔
یہ ہے تحریک انصاف کے انصاف کا اعلیٰ نمونہ۔
قارئین، مذکورہ عوامی بھرپور احتجاج اسی ضمن میں تھا کہ اس بار سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اور ریٹائرڈ ملازمین کی پنشن میں ایک دھیلے کا اضافہ نہیں کیا گیا تھا، جب کہ دوسری جانب عام ضرورت کی اشیا کی قیمتیں آسمان سے باتیں کررہی ہیں، اور اس میں شرم اور دکھ کی بات یہ ہے کہ اراکینِ اسمبلی اور سینٹ اراکین نے اپنی تنخواہوں اور مراعات میں چار سو فیصد اضافہ کردیا ہے، جیسے کہ وہ فرشتہ صفت ہیں اور باقی کروڑوں عوام کیڑے مکوڑے۔
یہ ایک تاریخی اجتماع تھا جس میں یونین کے سربراہان نے شعلہ بیان تقاریر کیں۔ وہ اپنی تنخواہیں بڑھانے کا مطالبہ کررہے تھے۔ پنشن بڑھانے کے ساتھ ساتھ وہ اُسے نہ ختم کرنے کا بھی واویلا کررہے تھے۔ نیز ریٹائرمنٹ کی عمر ساٹھ سے پینسٹھ سال مقرر کرنے کی مانگ بھی کر رہے تھے۔ مقررین نے نام لیے بغیر کہا کہ عجیب بات ہے کہ بعض افراد کے لیے قانون کی دھجیاں اُڑا کر اُن کی ملازمت میں سالوں توسیع کی جاتی ہے اور لاکھوں، کروڑوں عوام کے مطالبہئ حق پر خاموشی اختیار کی جاتی ہے۔
یہ ایک غیر سیاسی اجتماع تھا۔ عوام اب سمجھنے لگے ہیں کہ سیاسی پارٹیوں اور سیاسی شخصیات کے ساتھ دم چھلا رہنے کے بجائے اپنے مطالبات اور ضرورتوں کے لیے اکٹھا ہوکر جدوجہد کرنی چاہیے۔ سیاسی پارٹیوں نے ہمیں کمزور کرنے کے لیے مختلف ٹولیوں میں اپنے مزموم اغراض اور مفاد کے لیے بانٹ دیا ہے۔ اس لیے سیاسی پارٹیوں اور سیاسی وابستگی سے بالاتر ہوکر عوامی جد و جہد کا آغاز کرنا چاہیے۔ حکومتِ وقت تو عوامی حقوق پر غاصب ہے ہی، لیکن اپوزیشن کی خاموشی اسی غصب میں برابر کی شریک ہے۔ دونوں برابری کی بنیاد پر ایک مخصوص ٹولے کے مخصوص مفادات کے تحفظ کے لیے شراکت دار ہیں۔
عوام کو چاہیے کہ اپنے طبقاتی مفادات کے تحفظ کے لیے خود منظم ہوں اور خود جد و جہد کا آغاز کریں۔ موجودہ سلسلہئ جدوجہد کو جاری رکھنا چاہیے۔ بہت جلد وہ وقت آنے والا ہے کہ عوام کے غیض و غضب سے حکمرانوں کے در و دیوار اور ایوان کانپ اُٹھیں گے۔
اسی لمحے کے لیے تو علامہ اقبال نے فرمایا تھا:
اُٹھو میری دنیا کے غریبوں کو جگادو
کاخِ امرا کے درو دیوار ہلا دو